کراچی کلفٹن میں دفن حضرت عبدالله شاہ غازی رح کون ہیں ۔۔۔۔؟


اپ کا اسم مبارک عبدالله کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے ۔۔الاشتر اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پپوٹے ا  کی آنکھوں پر جھکے ہوں۔۔۔۔آپ منصور عباسی کے دور میں جاری اولاد رسول کی نسل کشی کے دوران زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اس لئے آپ کو غازی اور کابل میں مختصر قیام کے باعث کابلی بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔نسب یوں ہے ۔۔۔سید عبدالله الاشتر الکابلی المعروف عبدالله شاہ غازی ،بن امام کعبہ محمد نفس ذکیہ بن حضرت سید عبدالله المحض بن حضرت امام زادہ حسن مثنیٰ بن امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ۔۔۔۔۔

حضرت سید عبداللہ شاہ غازی حضرت سید محمد نفسِ ذکیہ کے ہاں حضرت سیدہ امِ سلمہ حسنی بنتِ سید محمد بن امامزادہ حسن مثنا بن امام حسن مجتبا بن امام مولا علی علیہم السلام کے بطن اطہر سے 123 ہجری کو مدینہ منورہ میں تولد ہوئے۔۔۔۔۔۔ یہیں آپ پلے بڑھے اور اپنے والد ماجد و چچاؤں و خاصکر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے تحصيلِ علم کیا۔ آپ امام جعفر صادق کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے اور آپ ایک بلند پایہ واعظ و محدث و فقیہ و مفسر صوفی و دانشور تھے۔ آپ گٌوناگوں صلاحیتوں کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ صف شکن وقاص (جنگجو) بھی تھے۔۔۔۔۔۔
آپ کے والد گرامی امام محمد بن عبدالله المعروف نفس ذکیہ بیت الله شریف کے امام تھے ۔۔۔حجاز و گردو نواح کے لوگ ان سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے ۔۔۔خلیفہ وقت منصور عباسی نے جب دیکھا کہ ایک تو وہ اولاد رسول ہیں اور دوسرا حجاز میں ان کا اثر رسوخ بھی ہے تو انھوں نے اگر خلافت کا اعلان کردیا تو میرا تختہ الٹ جائے گا ۔۔۔۔تو اس نے محمد نفس زکیہ کے والد حضرت عبداالله المحض و خاندان کے دیگر افراد کو یکے بعد دیگرے گرفتار و شہید کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔۔۔اس پر امام محمد بن عبدالله نے باقاعدہ خروج کا اعلان کر دیا۔۔۔۔۔عباسی خلیفہ منصور کی فوج نے مکہ اور مدینہ پر چڑھائی کردی ۔۔۔امام کعبہ نفس ذکیہ کی شہادت کے لئے کعبہ شریف پر گولہ باری کی ۔۔کعبہ شریف کی دیواروں کو نقصان پہنچا ۔۔۔محمد نفس زکیہ بیت الله شریف میں شہید ہوئے ۔۔۔ان کی لاش کو کئی روز بیت الله شریف کے باہر درخت کے ساتھ لٹکائے رکھا گیا۔۔۔۔۔ازاں بعد حضرت سید عبداللہ اٌشتر بن محمد نفسِ زکیہ نے باخمرا بصرہ سے 145 ہجری بمطابق 763 عیسوی میں اپنے چچا سید ابراہیم نفسِ رضیہ کے سنگ ہو کر خروج کیا- تو ظالم عباسی حکومت کے ظالم جرنیل عیسیٰ بن موسیٰ عباسی اور کرنل حمید بن قحطبہ نے آپ کے چچا سید ابراہیم کو شہید کر دیا اور آپ کسی طرح بچ بچا کر 147 ہجری بمطابق 764 عیسوی میں براستہ خراسان اور کابل ، دیبل (کراچی) پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ آپ پہلے سید ہیں جو واردِ ہند ہوئے- یہاں اس وقت گورنر حضرت عَمرو بن حَفص کی حکومت تھی انہوں نے آپ کو پناہ دی اور اہلِ ہند نے بھی گورنر ھذا کا اس نیک اقدام میں بَھرپٌور ساتھ دیا- البتہ یہاں آپ کا نام عبداللہ اشتر کی بجائے عبداللہ شاہ غازی ہو گیا۔ منصور عباسی حمار نے پِھر گورنر تبدیل کیا چونکہ پہلا گورنر عبداللہ شاہ غازی کے حق میں منصور سے لڑائی کرنے پر اٌتر آیا تھا۔ تو دوسرے گورنر ہشام بن عٌمر تغلبی نے بھی آپ کا بہت حیا کیا آپ کے قتل کو منصور عباسی کے سامنے حیل و حٌجت کر کے ٹالتا رہا۔ مگر اس کے بھائی نے ایک دن آپ کو چند ساتھیوں کے ہمراہ ایک جنگل میں شکار کھیلتے ہوئے پایا تو 151 ہجری بمطابق 768 عیسوی میں آپ کو شہید کر دیا۔ اور گورنر نے حکومتی سطح پر یہ کاروائی پِھر اپنے نام کر لی کہ جو ہونا تھا سو ہو گیا۔ خلیفہ کو تو راضی رکھوں -
آپ نے کراچی میں ایک ہندی انسل خاتون آمنہ سے نکاح کیا تھا کہ جس کے بطن سے آپ کی شہادت کے کچھ دن بعد ایک بیٹا کراچی میں پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا۔ تو گورنر ہشام بن عمر تغلبی نے آپکے سَر یا بعض مورخین کے نزدیک سَر نہیں کاٹا گیا تھا بلکہ اطلاع نامہ (خط) کے ساتھ آپ کی بیوی و بیٹا کو منصور کے پاس بغداد بھیج دیا۔ منصور نے معصوم سید محمد حسنی و اس کی والدہ پر پابندی لگائی کہ اگر آپ لوگ صرف حِجاز میں رہو گے تو میں تمہیں قتل نہیں کروں گا اور جب حجاز سے باہر نکلو گے تو قتل کر دئیے جاؤ گے۔ چنانچہ آمنہ سِندھی ایک دانا خاتون تھیں وہ حجاز سے باہر کبھی کہیں نہیں گئیں سو اس طرح محمد کو پالنے و پڑھانے میں کامیاب رہیں۔ محمد دیبلی بھی بڑا ہو کر حجاز سے باہر نہیں نکلا سو بچا رہا۔ بعض مورخین نے اس محمد دیبلی کو غلطی سے محمد کابلی لکھ دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مصنفین دیبل کراچی سے لاعلم ہیں اور کابل شہر کو جانتے ہیں اس لئے انہوں نے دیبل کو کابل کا بگڑا ہوا لفظ خیال کیا اور یوں دیبلی کی بجائے کابلی لکھ ڈالا۔
۔۔۔۔ آپ کی شہادتِ عظیمہ کے بعد مسلم اہلِ ہند نے یہ عقل دوڑائی اور عقیدت کا شاندار مظاہرہ کیا ! سوچا کہ ہر سال جو ہمیں یہ سمندر طغیانی دِکھاتا اور نقصان پہنچاتا ہے تو اب ہم اس سید سردار شہید رحمت اللہ علیہ کو سمندر کے کنارے والی پہاڑی پر دفناتے ہیں۔ تو سمندر اِن کا حیا کرے گا اور دٌور چلا جائے گا اس طرح کراچی کو اَمان حاصل ہو گی۔ سو اہلِ کراچی نے آپ کے جسدِ خاکی کو کلفٹن سمندر کنارے دفنا کر آپ کا مقبرہ بنا دیا اور اہلِ ہند کراچی والوں کا عقیدت بَھرا انداز و اندازہ سو فیصد درست ثابت ہوا- کہ واقعی سمندر آپ کے مزار کا حَیا کرتے ہوئے چند کلومیٹر پیچھے ہٹ گیا۔ اللہ اکبر, جب سے آپ وہاں دفن کئے گئے ہیں تب سے لے کر اب تلک اس ساحل سے سمندری سیلاب کراچی میں نہیں آیا اور انشااللہ قیامت تک آئے گا بھی نہیں۔ آپ کے مزار کے صدقہ سے اہلِ کراچی امان میں ہیں۔ آپ کی دوسری اہم ترین کرامت یہ ہے کہ دیبل میں پہلے میٹھے پانی کا چشمہ یا کنوآں نہ تھا تو جہاں آپ کو دفنايا گیا اسی پہاڑی کے دامن میں یعنی آپ کے مزار کے نیچے قریب ہی ایک میٹھے پانی کا چشمہ پٌھوٹ پڑا جو اہلیانِ کراچی کے لئے بہت بڑا تحفہ تھا۔ سو یہ چشمہ آج بھی آباد شاد ہے اور لوگ اس کا پانی بطور تبرک پیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس میں شفاء ہے۔
آپ کی ایک شادی مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے مکہ میں کسی اسدی خاتون سے ہوئی تھی کہ جس کے بطن سے سید حسن و فاطمہ دو بچے تولد ہوئے تھے پھر دوسری شادی امِ محمد آمنہ ہندی انسل خاتون سے کراچی میں ہوئی جس کے بطن سے محمد پیدا ہوا۔ اسی محمد دیبلی سے آپ کی نسل چلی دوسرا بیٹا حسن لاولد گزرا۔ محمد کے واپس حجاز مقدس چلے جانے کی وجہ سے پھر باقی سادات کی طرح آپ کی اولاد بھی دوباره عرب سے واردِ ہند ہوئی اور پاک و ہند میں پھیلی۔ ہند میں وہابیت کے بانی مولوی اسماعیل دہلوی کے ساتھ بریلوی عالِم سید احمد بریلوی جو بالا کوٹ کے مقام پر شہید ہوئے۔ یہ سید احمد بریلوی آپ کی اولاد میں سے مشہور ترین شخص ہوئے ہیں۔
لگے ہاتھوں محمد دیبلی کی اولاد کا بھی حال سٌن لیں۔ ان کے ہاں حسن الاحور و طاہر لاولد و احمد لاولد و ابراہیم لاولد اور علی منقرض فرزندان پیدا ہوئے۔ اولاد کا سلسلہ صرف حسن الاعور کا جاری ہوا۔ ان حسن الاعور کو بنی طَے کے ایک آدمی نے موضع ” فَید “ میں 251 ہجری کو شہید کر دیا۔ مزید یہ معلوم نہیں کہ حکومتِ وقت عباسیہ کے حکم پر اس نے آپ کو شہید کیا یا ذاتی رنجش پر یا انجانے میں۔ چنانچہ اسی قریہ فید میں آپ کو دفنایا گیا۔ قبیلہ طے مضافاتِ حجاز مقدس میں رہتا ہے لہذا یہ فَید گاؤں موجودہ مٌلک سعودی عرب میں واقع ہے۔....۔۔۔۔

یہ تھا حضرت عبدالله شاہ غازی رح کا اجمالی خاکہ اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف مالک و مختار کل الله کی ذات ہے ۔۔۔اور ہوتا وہی ہے جو الله چاہتا ہے ۔۔۔مگر وہ اپنے نیک بندوں کی دعائیں ان کی شفاعت اور وسیلہ رد نہیں کرتا۔۔۔۔وہ سب کی سنتا ہے ۔۔اور قبول ان کی کرتا ہے جو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوں۔۔۔۔۔۔۔اگر کراچی والے یہ سمجھتے ہیں کہ سید عبدالله شاہ غازی رح کے جسد اطہر کی برکت کے باعث الله تبارک وتعالیٰ نے گزشتہ کئی صدیوں سے سمندری طوفانوں سے محفوظ رکھا ہے۔۔۔اور جب سے وہ وہاں دفن ہیں اس وقت سے کوئی بڑی تباہی نہیں ہوئی تو اس میں برا کیا ہے ؟؟۔۔۔۔۔کیا الله نے متقی اور پرہیزگار لوگوں کو اپنی رحمت اور برکت سے نہیں نوازا ۔۔۔۔کیا اولاد رسول کو الله نے برکت نہیں دی ۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔کیا الله پاک نے نبی پاک کو قرآن شریف میں حکم نہیں دیا کہ اے نبی ان سے کہہ دو میں تم سے نہیں مانگتا اجر رسالت سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے مؤدت کرو ۔۔۔۔تو پھر توہین کیوں کرتے ہو ؟۔۔۔۔۔۔

حضرت سید عبدالله شاہ غازی رح کے بارے توہین آمیز پوسٹیں کرنے والو جان لو تمہاری نمازیں تمہارے روزے تمہاری عبادات تمہارے منہ پر مار دی جائیں گی ۔۔۔کیونکہ حضور پاک کا فرمان ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی بغض اہل بیت ہوا اس پر جہنم واجب ہے۔ ۔۔۔۔۔

تحریر ۔۔۔۔سید واجد الرب گیلانی کوٹلی آزاد کشمیر ۔۔
متوسل درگاہ کاظمیہ اسحاقیہ مرید شریف چکوال ۔۔۔۔۔

حوالہ جات ۔۔۔۔۔
ناعمۃ الفیض فی انساب آل علی العریض ۔۔۔باب 6..فصل اؤل ۔۔۔سلک 10........از سید افضل ناعم عریضی خوارزمی ۔۔۔۔
حدیقۃ الزہرا معرف بہ گلستان زہرا ع ۔۔از پیر سید علی عباس گیلانی نقیب الاشراف ۔۔
و دیگر کتب تاریخ و سیر ۔۔

Comments